Brailvi Books

حرص
82 - 228
 گیا، اُس کے مُنہ سے ایک زور دار چیخ بُلند ہو کر فَضا کی پہنائیوں میں گم ہو گئی ، وہ دھڑام سے گری اور اُس کی رُوح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فوراً اُس کی بَرَہْنہ لاش پر چادر اُڑھا دی۔
	صبح ہوتے ہی ابلیس نے چِلّا کر اعلان کیا:اِس عابِد نے فُلانہ بنتِ فُلاں کے ساتھ رات کوزیادَتی کر کے اُس کو قتل کر دیا ہے۔یہ خبرِ وَحشت اثر سُن کر بادشاہ آگ بگولہ ہو کر سپاہیوں کے ساتھ عابِد رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ   کی خانقاہ پرآ پہنچا ۔ جب وہاں سے لڑکی کی بَرَہْنہ لاش برآمد ہو گئی تو عابِد رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے گلے میں زنجیر ڈالکر گھسیٹ کر باہَر نکالا گیا اور پھر سپاہیوں نے خانقاہ کی اِینٹ سے اِینٹ بجا دی۔ وہ عابِدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہصبرو شِکَیبائی کا دامن تھامے رہے یہاں تک کہ اُنہوں نے اپنا جلا ہوا ہاتھ بھی کپڑے میں چُھپائے رکھا اور کسی پر ظاہِر نہ ہونے دیا۔اُس وَقت دستو ر یہ تھا کہ زانی کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا۔ چُنانچِہ بادشاہ کے حکم سے عابدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  کے سر پر آرہ رکھ کر اُن کے بدن کے دو پَر کالے کر دیئے گئے۔ عابِد کی وفات ہو جانے کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس عورت کو زندہ کیا اور اُس نے از ابتِدا تا انتِہا ساری رُوداد سنائی۔جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے ہاتھ سے کپڑا ہٹایا گیا تو لڑکی کے بیان کے مطابِق واقِعی وہ جلا ہوا تھا اِس کے بعد لڑکی حسبِ سابِق پھر مُردہ ہو گئی ۔ حیرت انگیز حقیقت سُن کر لوگوں کے سر عقیدت سے جھک گئے اور خوش نصیب عابد کی اِس درد ناک رِحلت پر سبھی تأَسُّف وحسرت کرنے لگے ۔