نہیں دیا ، جب معلومات کیں تو پتا چلا کہ وہ بہت بیمار اور کمزور ہوگیا ہے۔میں اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ وہ صحن میں ایک بستر پرپڑا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ سیاہ، آنکھیں نیلی اورہونٹ موٹے ہو چکے تھے۔ میں نے اسے کہا:’’ لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ ‘‘ کی کثرت کرو۔‘‘ آواز سن کر اس نے بڑی مشکل سے میری طرف دیکھا، پھر اس پر غشی طاری ہو گئی۔ میں نے دوسری مرتبہ یہی تلقین کی تو اس نے اُداس نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور اس پر دوبارہ غَشی طاری ہو گئی۔جب میں نے تیسری مر تبہ کلمۂ پاک پڑھنے کی تلقین کی تو اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور لَڑکھڑاتی آواز میں کہنے لگا: ’’میرے بھا ئی منصور! اس کلمہ کے اور میرے درمیا ن رُکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے۔‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا: کہاں گئیں وہ نمازیں، وہ روزے، تہجد اور راتوں کا قیام؟تواس نے مجھے بڑی حسرت سے بتایا: میرے بھا ئی! یہ سب کچھ اللہعَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے نہیں تھا بلکہ میں یہ عبادتیں اس لئے کیا کرتا تھاتاکہ لوگ مجھے نمازی، روزے دار اور تہجدگزار کہیں ، میں لوگوں کو دکھانے کے لئے ذِکرُ اللہ کیا کرتا تھا لیکن جب میں تنہا ہوتا تو کمرے کادروازہ بند کرکے بَرَہْنَہ ہو کر شراب پیتا اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو ناراض کرنے والے کاموں میں مشغول رہتا ۔ ایک عرصہ تک میں اِسی طرح کرتا رہا پھر ایسا بیمار ہوا کہ بچنے کی اُمید نہ رہی، میں نے اپنی بیٹی سے قرآن پاک منگوایا اور حَرْف بحَرْف پڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ سورۂ یٰس تک پہنچ گیا،اس وَقْت میں نے قرآن مجید کو ہاتھوں میں اُٹھا کر بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں دعا کی: ’’یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! اس قرآنِ عظیم کے