Brailvi Books

حرص
218 - 228
(۸)دولت کے لالچ میں دوستی کرنے والا نادان 
	ایک غریب آدمی کے تین بیٹے تھے، جو کچھ اس کو دال روٹی میسر ہوتی ان کو کھلاتا تھا۔ اِن میں سے ایک بیٹا باپ کی غریبی اور دال روٹی سے ناخوش رہتا تھا ، چنانچِہ اس نے ایک دولتمند نوجوان سے دوستی کرلی اوراچھاکھانا ملنے کے لالچ میں اس کے گھر آنے جانے لگا ۔ ایک دن ان کے درمیان کسی بات پر اَن بن ہوگئی ۔ دولت مندنے اپنی امیری کے گھمنڈ میں اسے خُوب مارا پیٹا اور دانت توڑ ڈالے ۔تب وہ غریب اپنے دل ہی دل میں توبہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میرے باپ کی پیار سے دی ہوئی دال روٹی اس مار دھاڑ اور ذلت کے تَر نوالے سے بہتر ہے ،اگر میں اچھے کھانے پینے کی حِرْص نہ کرتا تو آج اتنی مار نہیں کھاتا اور میرے دانت نہیں ٹوٹتے۔
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس طرح کے بہت سے غریب نوجوان ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جو دولت سے ملنے والے عارضی فائدوں کے لئے امیرزادوں سے دوستیاں لگاتے ہیں اور حِرْص ولالچ کے ہاتھوں ذلت اٹھاتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو نشے جیسی مہلک عادت اور جرائم میں بھی ملوث ہوکر اپنے غریب والدین کے لئے مزید دُشواریوں کا باعث بنتے ہیں۔ دوستی نیک اسلامی بھائیوں سے ہونی چاہئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لئے ہونی چاہئے۔پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان ، رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:اچھے اور برے مصاحِب کی مِثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں