(5) یہ عِلْم کا ذِکْر سنتا ہے جو کہ عِبَادَت ہے ۔
(6) وہاں جب کوئی مُشکِل مسئلہ سنتا ہے جو اس کی سمجھ میں نہیں آتا اور اس کا دل پریشان ہوتا ہے تو حق تعالیٰ کے نزدیک مُنْکَسِرُ الْـقُلُوب ( یعنی عاجز و بے بس لوگوں) میں شُمار کیا جاتا ہے ۔
(7) اس کے دِل میں عِلْم کی عزّت اور جَہَالَت سے نَفْرَت پیدا ہوتی ہے ۔ (1)
صُحبَتِ صَالِح تُرَا صَالِح کُنَدْ صُحبَتِ طالِح تُرَا طالِح کُنَدْ
یعنی اچھّوں کی صُحْبَت اچھّا اور بُروں کی صُحْبَت بُرا بنا دیتی ہے ۔
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ! فی زمانہ شَیخِ طَرِیْقَت ، اَمِیرِ اَھْلِسُنّت ، بانیِ دَعْوَتِ اِسْلَامی حضرتِ علّامہ مولانا ابو بِلال محمد اِلْیَاس عطّار قادِری رَضَوِی ضِیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ وہ یادگارِ سَلَف شَخْصِیَّت ہیں جنکے مَخْصُوص انداز میں سنّتوں بھرے بیانات اور عِلْم و حِکْمَت سے مَعْمُور مَدَنی مُذاکروں نے لاکھوں مسلمانوں کے دِلوں میں مَدَنی اِنقِلاب برپا کر دیا ہے ، آپ کی عِلْمی شَخْصِیَّت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کثیر ذِمَّہ دار اِسْلَامی بھائی ، اِسْلَامی بہنیں اور مُـخْتَلِف شعبہ ہائے زِنْدَگی سے تَعَلّق رکھنے والے عاشِقانِ رسول ہفتہ وار ہونے والے مَدَنی مُذاکروں میں مُتَفَرِّق ( Different) مَوضوعات پر سوالات ( Questions) پوچھتے ہیں اور آپ انہیں حِکْمَت آموز و عِشْقِ رسول میں ڈوبے ہوئے جوابات ( Answers) سے نوازتے اور حَسْبِ عادَت وقتاً فوقتاً صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! کی دِلنواز صَدا لگا کر دُرُودِ پاک
________________________________
1 - تفسير کبير ، پ۱ ، البقرة ، تحت الآية: ۳۱ ، ۱ / ۴۰۳