’’میرے اعلیٰ حضرت کی پچیسویں شریف ‘‘کے پچیس حُروف کی نسبت سے تَیَمُّم کے 25 مَدَنی پھول
خجوچیزآگ سے جل کر راکھ ہوتی ہے نہ پگھلتی ہے نہ نَرم ہوتی ہے وہ زمین کی جِنس(یعنی قِسم)سے ہے اُس سیتَیَمُّم جائز ہے۔رَیتا، چُونا، سُرمہ ، گندھک،پتھّر (ماربل )، زَبَرجد،فِیروزہ،عَقیق وغیرہ جَواہِر سے تَیَمُّم جائزہے چاہے ان پر غُبارہویا نہ ہو۔ (بہارِ شریعت ج۱ ص۳۵۷، البحرُ الرَّائق ج۱ص۲۵۷)
خپکّی اینٹ،چینی یامِٹّی کے برتن سے تَیَمُّم جائزہے۔ہاں اگران پرکسی ایسی چیز کا جِرم (یعنی جسم یا تِہ)ہوجوجِنسِ زمین سے نہیں مَثَلاًکانچ کاجِرم ہوتو تَیَمُّم جائز نہیں۔ (بہارِ شریعت ج۱ ص۳۵۸)عُموماً چینی کے برتن پر کانچ کی تہ چڑھی ہوتی ہے اِس سیتَیَمُّم نہیں ہو سکتا۔
خجس مِٹّی،پتھّروغیرہ سے تَیَمُّمکیاجائے اُس کاپاک ہوناضَروری ہے یعنی نہ اس پرکسی نَجاست کا اثر ہونہ یہ ہوکہ صِرف خشک ہونے سے نَجا ست کااثرجاتا رہاہو۔(اَیْضاً ص ۳۵۷) زمین، دیوار اور وہ گَرد جو زمین پر پڑی رہتی ہے اگر ناپاک ہوجائے پھر دھوپ یا ہوا سے سُوکھ جائے اور نَجاست کا اثر ختم ہوجائے تو پاک ہے اور اس پر نَماز جائز ہے مگر اس سے تَیَمُّم نہیں ہوسکتا۔
خیہ وَہم کہ کبھی نَجِس ہوئی ہوگی فُضول ہے اس کااِعتبارنہیں۔ (اَیْضاً ص۳۵۷)
خاگرکسی لکڑی،کپڑے،یادَری وغیرہ پراتنی گَردہے کہ ہاتھ مارنے سے انُگلیوں کا نشان