Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
139 - 627
وَالرَّقِیْقِ، فَقَالَ:یَاعَبْدَاللہِ! لَا تَسْتَھْزِیئْ بِیْ! فَقُلْتُ:لَا اَسْتَھْزِیئُ بِکَ، فَاَخَذَہُ کُلَّہُ فَاسْتَاقَہُ فَلَمْ یَتْرُکْ مِنْہُ شَیْئََا،اللھُمَّ!اِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ  ذٰلِکَ ابْتِغَائَ وَجْھِکَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ  فِیْہِ‘‘ فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَۃُ  فَخَرَجُوْا یَمْشُوْنَ۔(مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ)	(بخا ری، کتاب الانبیائ، باب حدیث الغار، ۲/۴۶۴، حدیث:۳۴۶۵)
 	ترجمہ: حضرتِ  سَیِّدُنا اَبو عَبْدِ الرَّحْمٰن عَبْدُاللہ بن عمر بن خَطَّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ فرماتے ہیں :’’ میں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ گزشتہ زمانے میں تین شخص کہیں جارہے تھے جب رات ہوئی تو پناہ لینے کے لئے ایک غار میں داخل ہوئے اچانک پہاڑ سے ایک چٹان گری جس نے غار کا منہ بند کردیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا: اس مصیبت سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ اللہعَزَّوجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کر کے دعا کریں۔ چنانچہ، ان میں سے ایک نے کہا :یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے ہو گئے تھے میں ان سے پہلے نہ تو اپنے اہل و عیال کو پینے کے لئے دودھ دیا کرتا تھا نہ ہی اپنے خادموں کو ، ایک دن میں درختوں کی تلاش میں بہت دور نکل گیا جب واپس آیا تو میرے والدین سو چکے تھے میں دودھ لے کر ان کے پاس آیا تو انہیں سویا ہوا پایا میں نے نہ تو انہیں جگانا مناسب سمجھا نہ ہی ان سے پہلے اہل وعیال میں سے کسی کو دینا پسند کیا ،بچے بھوک کی وجہ سے میرے پاؤں میں بِلبِلاتے رہے لیکن میں دودھ کا پیالہ لئے اپنے والدین کے پاس کھڑا رہا، جب صبح ہوئی تو میں نے انہیں دودھ پیش کیا ۔ یااللہ عَزَّوَجَلّ!َ  اگر میں نے یہ عمل صرف تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما! اس کی دعا سے چٹان کچھ سِرَک گئی ، لیکن ابھی اتنی جگہ نہ بنی تھی کہ وہ نکل سکتے ، پھردوسرے نے کہا: یااللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے میرے چچا کی بیٹی لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی ایک روایت میں ہے کہ میں اس سے ایسی شدید محبت کرتا تھا جیسے مرد عورتوں سے کرتے ہیں ،میں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا تو اس نے انکار کر دیا ، پھر وہ قحط میں مبتلا ہوئی تو میرے پاس آئی میں نے اس شرط پر اسے 120 دینا ر دیئے کہ وہ میری خواہش پوری کردے ، وہ مجبور تھی تیار ہوگئی ،جب میں اس کے ساتھ تنہائی میں گیا اور اس پر قابو پالیا (ایک روایت میں ہے کہ جب میں اس کی دونوں رانوں کے بیچ بیٹھ گیا) تو اس نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر اور ناحق مُہر کو نہ توڑ (یعنی اس برے کام سے باز آجا) یہ سن کر میں نے اسے چھوڑ دیا اورمیں بدکاری سے باز رہا، حالانکہ مجھے اس سے شدید محبت تھی، پھر میں