(مثلاًظہر وعصر)میں آہِستہ قرَاءَ ت کرنا(۲۱) ہر فرض و واجِب کا اُس کی جگہ ہونا(۲۲)رُکوع ہر رَکعَت میں ایک ہی بار کرنا (۲۳) سجدہ ہر رَکْعَت میں دو ہی بار کرنا (۲۴) دوسری رَکْعَت سے پہلے قَعدہ نہ کرنا(۲۵) چار رَکعت والی نَماز میں تیسری رَکْعَت پرقَعدہ نہ کرنا (۶ ۲) آیتِ سَجدہ پڑھی ہو توسَجدۂ تِلاوت کرنا (۲۷) سجدۂ سَہْوواجب ہوا ہو تو سجدۂ سَہْوکرنا(۲۸) دو فرض یا دو واجِب یا فرض و واجِب کے درمیان تین تسبیح کی قَدَر (یعنی تین با ر ’’ سُبْحٰنَ اللہ‘‘کہنے کی مقدار) وقفہ نہ ہونا (۲۹) اِمام جب قِرائَ ت کرے خواہ بُلند آواز سے ہو یا آہِستہ آواز سے مُقتدی کاچُپ رہنا (۳۰ ) قراءَ ت کے سوا تمام واجِبات میں اِما م کی پَیروی کرنا۔
(الدرالمختاروردالمحتار،ج۲،ص۱۸۱،الفتاوی الھندیۃ، ج۱،ص۷۱)