Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
114 - 132
سوال:اسکی کیا دلیل ہے؟
جواب:حدیث۱:صحیح مسلم میں عبد اللّٰہبن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سلام پھیر کر بلند آواز سے یہ کلمات پڑھتے تھے: ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنُ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔‘‘ (1)
حدیث۲:صحیح مسلم میں ہے: حضرت ابنِ عباس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے:’’فرائض سے فارغ ہو کر بلند آواز سے ذکرُ اللّٰہ کرنا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ میں مُروّج تھا۔‘‘(2)
سوال:بلند آواز سے ذکرکرتے ہوئے کیا احتیاط پیشِ نظر رکھی جائے؟
جواب:بلند آواز سے ذکر کرنے میں یہ احتیاط پیشِ نظر رہے کہ سوتے ہوئے لوگوں کی نیند میں خَلل نہ آئے یا نماز ی یا تلاوت کرنے والے کوتشویش نہ ہو۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
بڑی راتوں میں عبادت
سوال:شبِ معراج میں عبادت کرنا کیسا ہے اور اس کی کیا فضیلت ہے؟
جواب:شبِ معراج شریف میں عبادت کرنا جائز ومستحسن ہے،اس میں عبادت کرنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح مسلم،کتاب المساجد،باب استحباب الذكر بعد الصلاة،ص۲۹۹،حدیث:۵۹۴
2…صحیح مسلم،کتاب المساجد،باب استحباب الذكر بعد الصلاة، ص۲۹۴،حدیث:۵۸۳