خُداکی آئینہ دار ہوتیں ، آپ وَعظ و نصیحت کے ذریعے مَحَبَّت و اُخُوَّت کا دَرْس دیتے ، لوگوں کوآخِرت کی طرف مُتَوجِّہ کرتے ، حُبّ جاہ و مال ، نِفاق ، رِیاکاری اور بُغْض وکینہ سمیت تمام باطنی بیماریوں سے بچنے کا درس دیتے جبکہ دُنیاکی بے ثَباتی ، ایمان پرپختگی ، اعمالِ صالحہ کی اَہَمیَّت اوراَخْلاقِ کامل کواپنانے کی ترغیب بھی دیتے ، آپ کے فرامیْنِ مُقدَّسہ دل سے نکلتے اوردل میں اُترجاتے تھے ۔
شیخ عَبْدُالحق محدّثِ دہلویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : حضورغوث پاکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی کوئی محفل ایسی نہ ہوتی جس میں غیرمُسلم آپ کے دَسْتِ حق پرست پردولَتِ ایمان سے مُشرف نہ ہوتے اورنافرمان ، ڈاکو ، گمراہ اوربد مَذہب اَفْرادآپ کے ہاتھ پرتائِب نہ ہوتے ۔ جب500 سے زِیادہ غیر مُسلم اور لاکھوں سیاہ کار آپ کے ہاتھ پرتائب ہوچکے اور اپنی بداَعمالیوں سے بازآ چکے تھے تودیگر لوگوں کے بارے میں کیاکہاجا سکتا ہے ( یعنی بے شمار لوگ آپ سے مستفیدہوئے ) ۔ (1)
اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَریعنی نیکی کاحکم دینے اوربُرائی سے منع کرنے کے مُعاملے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحُکامِ بالا کی پروا نہ کرتے اور خُلَفا ، وُزَرا ، سَلاطین اور عوام و خواص سبھی کو نیکی کی دعوت دیتے ۔ حضرت سیِّدُنا امام شَمسُ الدِّین محمد بن احمدذہبیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : شیخ عبْدُالقادرجیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبرسرِمنبراعلانِ حق فرماتے اور جو کسی ظالم کولوگوں پر حاکم بناتا آپ اس پر اعتراض کرتے ۔ (2)
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی عُمْرمُبارَک کے 33برس درس و تَدریس اورفتوٰی نَویسی
________________________________
1 - اخبارالاخیار ، ص۱۳
2 - تاریخ الاسلام للذھبی ، رقم۲۳ ، عبد القادر بن ابی صالح عبداللہ ، ۳۹ / ۹۹