نے قرآن و سُنَّت کی روشنی میں بیان فرمایااورلوگوں کواللہتبارک وتعالیٰ کی طرف بُلایاتو وہ سب اِطاعت و فرمانبرداری کے لئے جلدی کرنے لگے ۔ (1)
لُعاب اپنا چٹایا احمدِ مُختار نے ان کو توپھر کیسے نہ ہوتابول بالاغوثِ اعظم کا(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غوثِ پاکرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا پہلا بیان :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُضُورغوثِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضورنَبِیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورحضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ترغیب دِلانے اورلُعاب مُبارک سے فَیْض پانے کے بعدپہلابیان فرمایااورپہلے ہی بَیان سے لوگوں کے دل آپ کی طرف مائل ہوگئے اورجَوق دَرجَوق لوگ آپ کی صحبَتِ بابرکت سے فیض حاصل کرنے لگے ۔ آپ کی مَحافل میں زِندگی کے تمام شُعْبوں سے تَعَلُّق رکھنے والے اَفْرادشریک ہوتے ، عُلَمااور فُقَہا سب جمع ہوتے ۔ آپ کی مجْلسِ وَعظ کا یہ عالَم تھا کہ بیک وَقْت چارچارسو اَفْرادقلم دوات لے کرحاضرہوتے اور آپ کے ملفوظات تحریر کرتے ۔ (3)
مُحَرِّر چار سو مجلس میں حاضر ہو کے لکھتے تھے
ہوا کرتا تھا جو اِرشادِ والاغوثِ اعظم کا(4)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مَواعظِ حَسَنہ( اچھی نصیحتیں) صَبْرورِضا ، زُہْدو تَقْوٰی اورخوفِ
________________________________
1 - بهجةالاسرار ، ذکروعظہ ، ص۱۷۴
2 - قبالَۂ بخشش ، ص۵۳
3 - اخبار الاخیار ، ص۱۲
4 - قبالَۂ بخشش ، ص۵۴