Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
352 - 541
حُسنِ یُوسُف کی رَعنائیاں : 
	حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حُسن وجمال کااَندازہ اس بات سے لگایئے کہاللہتبارَکَ و تعالیٰ نے  تمام حَسین وجمیل اَشیا ءکو پیدا فرما کر پُوری کائنات کو حُسن و جَمال بخشااورپھرپُوری کائنات کے حُسن سے بڑھ کرحضرت سیِّدُنایُوسفعَلَیْہِ السَّلَامکو حُسن و جَمال عطا فرمایا ، ان کے حُسن و جما ل کایہ عالَم تھا کہ جب مِصْر کی عورتوں نے آپ کو دیکھاتوآپ کے حُسن میں ایسی خُود رَفْتہ اور گُم ہوئیں کہ بے خُودی کے عالَم میں اُنہوں نے  اپنے ہاتھ کی اُنگلیاں تک کاٹ ڈالیں  ۔ اس واقعے کو قرآنِ کریم نے اِن اَلفاظ کے ساتھ بیان کیا ۔ چُنانچہپارہ12 ، سُوْرَۂ یُوْسُف ، آیت نمبر31میںاللہعَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتاہے : 
فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًاؕ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ(۳۱) ( پ۱۲ ، یوسف : ۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان : جب عورتوں نے یوسف کو دیکھااُس کی بڑائی بولنے لگیں  اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بولیں اللہکو پاکی ہے یہ توجِنسِ بشرسے نہیں یہ تو نہیں مگر کوئی معزّز فرشتہ  ۔ 
تفسیرخزائِنُ الْعِرْفان : 
	صَدرُالْافاضِل حضرت مولانامُفْتی سیِّدمحمدنعیْمُ الدِّین مُرادآبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خَزائِنُ الْعرفان میں اس آیتِ مُبارکہ کے تَحت فرماتے ہیں : کیونکہ اُنہوں نے اس جَمالِ عالَم اَفروزکے ساتھ نَبُوَّت و رِسالت کے اَنواراورعاجزی و اِنکساری کے آثار اور شاہانہ ہیبت واِقْتداراورلذیذکھانوں اورخُوبصورت چہروں کی طرف سے بے نیازی کی شان دیکھی تَعَجُّب میں آگئیں اور آپ کی عَظَمَت و ہیبت دِلوں میں بھر گئی اورحُسن و جمال نے ایسا وارَفْتہ کیا