کہ ان صحابیاترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صرف ایک بارارشاد فرمایا کہ”پیچھے رہو!راستے کے درمیان سے نہ گزراکرو“تو اُنہوں نے اس حکم کی ایسی تعمیل کی کہ دیواروں سے لگ کرچلنے سے اُن کے کپڑے اَٹک جایاکرتے تھے ۔ شیْخِ طریقت ، اَمِیْرِاہلسُنَّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفی زَمانہ مُسلمانوں میں پائی جانے والی بے حَیائی پرافسوس کا اظہارکرتے ہوئے فرماتے ہیں : آج کل اکثرمُسَلمان عورَتوں نے مَردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے کی ناپاک دُھن میں حَیاکی چادراُتارپھینکی ہے اوراب دِیْدہ زَیب ساڑھیوں ، نیم عُریاں غَراروں ، مردانہ وَضْع کے لباسوں ، مردجیسے بالوں کے ساتھ شادی ہالوں ، ہوٹلوں ، تفریح گاہوں اورسینما گھروں میں اپنی آخِرت برباد کرنے میں مشغول ہیں ۔ آج کانادان مُسَلمان خودT.V. ، V.C.R.اورINTER NETپرفلمیں ڈِرامے چلاکر ، بے ہُودہ فلمی گیت گُنگناکر ، شادیوں میں ناچ رَنگ کی محفلیں جَماکر ، غیرمُسلموں کی نَقّالی میں مَعاذَاللہداڑھی مُنڈا کر ، بے شرمانہ لباس بدن پر چڑھا کر ، اسکوٹر کے پیچھے بے پردہ بیگم کو بٹھاکر ، میک اَپ کرواکر مَخلوط تفریح گاہ میں لے جا کر خُود اپنے ہاتھوں اپنے لیے جہنَّم میں جانے کے اعمال کر رہاہے ۔
’’ حضرت علامہ مولانامُفتی سیِّدمحمدنعيْمُ الدِّين مُرادآبادیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہيں : عورَتيں گھرکے اندرچلنے پھرنے ميں بھی پاؤں اِس قَدَرآہِستہ رکھيں کہ ان کے زَيور کی جَھنکارنہ سُنی جائے ، اِسی لئے چاہئے کہ عورَتيں باجے دارجھانجھن نہ پہنيں ۔
حديث شريف ميں ہے : ’’ اللہعَزَّ وَجَلَّاُس قوم کی دُعاقَبول نہیں فرماتاجن کی عورَتيں جھانجھن پہنتی ہوں ۔ ‘‘ (1) اس سے سمجھناچاہئے کہ جب زيورکی آوازعَدَمِ قَبولِ دُعا( یعنی دعا قَبول نہ ہونے ) کاسبب ہے تو خاص عورَت کی( اپنی) آواز( کا بِلااجازتِ شَرعی غیرمردوں تک
________________________________
1 - تفسیرات احمدیہ ، پ۱۸ ، النور ، تحت الایة : ۳۱ ، ص۵۶۵