Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
273 - 541
مہمان نوازی کی اقسام اوران کے تقاضے :
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اُمُّ الْمُؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے عمل سے معلوم ہواکہ لوگوں کے مَقام ومرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی مہمان نَوازی ، خاطِرتَواضُع اورتعظیم و توقیر کرنی چاہیے ۔ ہرمہمان کے ساتھ اس کی حیثیّت  کے مُطابق سُلُوک کرنا چاہیے ، مہمانوں میں کچھ تو وہ ہوتے ہیں جو گھنٹے دو گھنٹے کے لئے آتے ہیں اورچائے ، پانی  پینے کے بعدچلے جاتے ہیں اوربعض کے لئے کھانے پینے کا خاص  اِہْتمام ضروری ہوتاہے ، بعض وہ ہوتے ہیں جنہیں ہم شادی بیاہ ، عقیقے وغیرہ کسی تقریب میں دعوت دے کربُلاتے ہیں ، اس میں امیروغریب کا اِمتیازکیے بغیر  کِھلانے پِلانے اور بٹھانے میں سب کے لئے یکساں اہتمام کرنا چاہیے ، ایسانہ ہوکہ امیروکبیر لوگ تو شاہانہ اَنداز میں بیٹھے خُوب اَنْواع واَقْسام کے عُمدہ کھانوں  سے لُطف اُٹھائیں ، مگر مُفْلس ومُتوَسِّط لوگوں کو عام کھانے  کھلائے جائیں ، ایساہر گز نہیں کرنا چاہیے کہ اس سے مُسلمانوں کی دل شکنی ہوتی  ہے ۔ بعض مہمان بہن ، بھائی یاقریبی رشتہ دار  ہوتے ہیں ، جو کچھ  دنوں کے لئے رہنے آتے ہیں ، ان کی مہمان نوازی بھی کرنی چاہیے کہ
	حدیْثِ پاک میں ہے :  ’’ جواللہعَزَّ  وَجَلَّاورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہے ، وہ مہمان کااِکرام کرے ، ایک دن رات اُس کاجائزہ ہے ( یعنی ایک دن اس کی پوری خاطر داری کرے ، حَسْبِ استطاعت اس کے لیے پُرتکلُّف کھانا تیار کروائے ) اورضِیافت تین دن ہے ( یعنی ایک دن بعدجوگھرمیں مَوْجُود ہوپیش کرے ) اورتین دن کے بعدصدقہ ہے ۔ (1) 



________________________________
1 -    بخاری ، کتاب الادب ، باب اکرام الضیف...الخ ، ۴ / ۱۳۶ ، حدیث : ۶۱۳۵