چھپاہواہے ، ظالم نے کسی سے دریافت کیا کہ وہ کہاں ہے ؟تو وہ اگرچہ جانتا ہو توکہہ سکتا ہے مجھے معلوم نہیں ۔
(2)…کسی کی امانت اس کے پاس ہے ، کوئی چھیننے کے لئے پوچھتاہے کہ امانت کہاں ہے ؟ تویہ انکارکرسکتاہے کہ میرے پاس اس کی امانت نہیں ۔ (1)
(3)…اسی طرح دو مسلمانوں میں اِختلاف ہے اور یہ دونوں میں صُلح کرانا چاہتاہے ، تو ایک کے سامنے یہ کہہ دے کہ وہ تمہیں اچھاجانتاہے ، تمہاری تعریف کرتاہے یا اس نے تمہیں سلام کہاہے اوردوسرے کے پاس بھی اسی قسم کی باتیں کرے تا کہ دونوں میں عداوت کم ہوجائے اورصُلح ہوجائے ۔
(4)…نیز بیوی کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خلافِ واقع کہہ دے ( تو بھی جھوٹ نہیں) ۔ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بیان کا خلاصہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج ہم نے جُھوٹ کی تباہ کاریوں کے مُتَعلِّق سُنا ، یقیناً جُھوٹ سب بُرائیوں کی جَڑ ہے ، اگر کوئی جُھوٹ سے بچنے کا پُخْتَہ اِرادہ کرلے تو سچ بولنے کی بَرَکت سے دیگر کئی گُناہوں سے بھی بچ سکتاہے ۔ جُھوٹاشَخْص آخِرت میں تو رُسوا ہو گا ہی ، بسااوقات دُنیامیں بھی ایساشَخْص ذَلِیْل وخَوارہوتاہے ۔ جُھوٹ بولنے والے سے فِرشتہ ایک مِیْل دُور چلا جاتاہے اوروہاللہعَزَّ وَجَلَّکا ناپسندیدہ بندہ بن جاتاہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دِیگرگناہوں کے ساتھ ساتھ ’’ جھوٹ ‘‘ کے خِلاف اِعلانِ جنگ کرتے ہوئے تمام گُناہوں
________________________________
1 - ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع ، ۹ / ۷۰۵
2 - فتاوی ھندیة ، کتاب الکراھیة ، الباب السابع عشر فی الغناء الخ ، ۵ / ۳۵۲