Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
145 - 541
 چھپاہواہے ، ظالم نے کسی سے دریافت کیا کہ وہ کہاں ہے ؟تو وہ اگرچہ جانتا ہو توکہہ سکتا ہے مجھے معلوم نہیں ۔ 
(2)…کسی کی امانت اس کے پاس ہے ، کوئی چھیننے کے لئے پوچھتاہے کہ امانت کہاں ہے ؟ تویہ انکارکرسکتاہے کہ میرے پاس اس کی امانت نہیں ۔ (1) 
(3)…اسی طرح دو مسلمانوں میں اِختلاف ہے اور یہ دونوں میں صُلح کرانا چاہتاہے ، تو ایک کے سامنے یہ کہہ دے کہ وہ تمہیں اچھاجانتاہے ، تمہاری تعریف کرتاہے  یا اس نے تمہیں سلام کہاہے اوردوسرے کے پاس بھی اسی قسم کی باتیں کرے تا کہ دونوں میں عداوت کم ہوجائے اورصُلح ہوجائے ۔ 
(4)…نیز بیوی  کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خلافِ واقع  کہہ دے ( تو بھی جھوٹ نہیں)  ۔ (2) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بیان  کا خلاصہ :
	میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!آج ہم نے جُھوٹ کی تباہ کاریوں کے مُتَعلِّق سُنا ، یقیناً جُھوٹ سب  بُرائیوں کی جَڑ ہے ، اگر کوئی جُھوٹ سے بچنے کا پُخْتَہ اِرادہ کرلے تو سچ بولنے کی بَرَکت سے دیگر کئی گُناہوں سے بھی بچ سکتاہے ۔ جُھوٹاشَخْص آخِرت میں تو رُسوا ہو گا ہی ، بسااوقات دُنیامیں بھی ایساشَخْص ذَلِیْل وخَوارہوتاہے ۔  جُھوٹ بولنے والے سے فِرشتہ ایک  مِیْل دُور چلا جاتاہے اوروہاللہعَزَّ  وَجَلَّکا ناپسندیدہ بندہ بن جاتاہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دِیگرگناہوں کے ساتھ ساتھ ’’ جھوٹ  ‘‘ کے خِلاف اِعلانِ جنگ کرتے ہوئے تمام گُناہوں



________________________________
1 -   ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع ، ۹  / ۷۰۵
2 -   فتاوی ھندیة ، کتاب الکراھیة ، الباب السابع عشر فی الغناء   الخ ، ۵  / ۳۵۲