کیونکہ اِس سے لوگوں کے حُقُوق اورعزّت وآبرو کو نُقْصان پہنچتااورمُعاشَرتی نِظام میں خَلَل واقِع ہوتا ہے ۔
جھوٹی گواہی اورجھوٹی قسمیں :
رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرْشادفرمایا : ’’ جُھوٹی گواہی ، اللہعَزَّ وَجَلَّکے ساتھ شِرک کے برابرہے ۔ ‘‘ (1) اِسی طرح جھوٹی قسمیں کھانابھی اِنْتہائی بُری خَصلَت ہے ، ہمارے یہاں جُھوٹی قسمیں کھاکر ترقّی پانے کو بڑا کارنامہ سمجھاجاتا ہے اور جوجُھوٹ سے دامَن بچاتے ہوئے ہمیشہ سچ بولنے کا عادی ہو ، اُسے بے وقوف ، کم عَقْل ، نادان اور اَحمَق سمجھا جاتااور بسا اَوقات سچ کو تَرقّی کی راہ میں رکاوٹ تَصَوُّر کِیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اَوقات مَذمُوم مَقاصِد کے لیے جُھوٹی قَسَم اُٹھانے سے بھی دَریغ نہیں کِیاجاتا ۔ حالانکہ یہ بھی گُناہِ کبیرہ ہے ۔ آئیے ! جُھوٹی قسمیں کھانے کی مَذمَّت پرمشتمل دوفَرامِینِ مُصْطَفٰے سُنتے ہیں :
جھوٹی قسموں کی مَذمَّت :
(1)…ارشادفرمایا : شرک ، والدین کی نافرمانی ، جُھوٹی قَسَم کھانااورکسی کو قَتْل کرنا کبیرہ گُناہ ہیں ۔ (2)
(2)…ارشادفرمایا : جواپنی قَسَم کے ذریعے کسی مُسَلمان کاحق چھینے ، تواللہعَزَّ وَجَلَّاُس پرجہنَّم واجِب اورجَنَّت حَرام کردے گا ۔ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عَرْض کی : یارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اگروہ معمولی شَے ہوتو؟ارشادفرمایا : اگرچہ لُوبان ہی ہو ۔ (3)
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب الشھادات ، باب ماجاء فی شھادة الزور ، ۴ / ۱۳۳ ، حدیث : ۲۳۰۶
2 - بخاری ، کتاب الایمان والنذور ، باب الیمین الغموس ، ۴ / ۲۹۵ ، حدیث : ۶۶۷۵
3 - مسلم ، کتاب الایمان ، باب وعید من اقتطع حق مسلم الخ ، ص۷۶ ، حدیث : ۳۵۳