کاش! ہمارے اندر بھی جذبہ پیدا ہو جائے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشِقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عشق ومحبت بھرے واقِعات ہمارے لئے مَشعلِ راہ ہیں۔ راہِ عشق میں عاشِق اپنی ذات کی پرواہ نہیں کرتابلکہ اُس کی دِلی تمنّایہی ہوتی ہے کہ رضائے محبوب کی خاطر اپنا سب کچھ لُٹادے۔کاش!ہمارے اندر بھی ایسا جذبۂ صادِقہ پیدا ہوجائے کہ خدا و مصطَفٰے کی رضا کی خاطِراپنا سب کچھ قربان کر دیں۔ ؎
جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
مَحَبَّت کے کھوکھلے دعوے
افسوس! صد کروڑ افسوس! اب مسلمانوں کی اکثریت کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ عشق و مَحَبَّتکے کھوکھلے دعوے اور جان ومال لُٹانے کے محض نعرے لگاتے ہیں ظاہری حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا اِن کے نزدیک دُنیا کی قَدر (عزّت) اِس قَدَر بڑھ گئی ہے کہ معاذَاللہ اسلامی اَقدار کی کوئی پرواہ نہیں رہی، نبیِّ رَحمت، غمگُسارِ اُمَّتصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی آنکھوں کی ٹھنڈ ک (یعنی نماز) کی پابندی کا کچھ لحاظ نہیں ،غیروں کی