منقول ہے کہ سب سے پہلے درہم و دینار بنے تو شیطان نے ان کو اٹھا کر اپنی پیشانی پر رکھا پھر ان کو چوما اوربولا: جس نے ان سے محبت کی وہ میرا غلام ہے۔ (العیاذباللہ)
حضرت سمیط بن عجلان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: درہم و دینار (مال ودولت) منافقوں کی لگامیں ہیں وہ ان کے ذریعہ دوزخ کی طرف کھینچے جائیں گے۔
حضرت یحییٰ بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: درہم بچھو ہیں اگر تم اس کے زہر کا اتار نہیں جانتے تو اسے نہ پکڑ وکیوں کہ اگر اس نے ڈس لیا تو اس کا زہر تمہیں ہلاک کردے گا۔ عرض کیاگیا: اس کا اتار کیا ہے؟ فرمایا: حلال طریقے سے حاصل کرنا اور اس کے حقوق واجبہ ادا کرنا۔
حضرت علاء بن زیاد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: دنیا خوب بناؤ سنگھار کر کے میرے سامنے مثالی صورت میں آئی۔ میں نے کہا: میں تیرے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔ وہ بولی: اگرآپ مجھ سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو درہم و دینار سے نفرت کیجئے اس لئے کہ درہم و دینار وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ آدمی ہر قسم کی دنیا حاصل کرتاہے لہٰذا جو ان دونوں (یعنی درہم و دینار)سے صبر کریگا (یعنی دور رہے گا)وہ دنیا سے بھی صبر کرلے گا۔
مزید امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے درج ذیل عربی اشعار نقل کئے ہیں: