| ضیائے صدقات |
''مال جمع رکھنا بعد وفات چھوڑ جانا حلال ہے جبکہ اس سے زکوٰۃ، فطرہ، قربانی، حقوق العباد ادا کئے جاتے رہے ہوں، یہ کنز میں داخل نہیں جس کی قرآن میں برائی آئی ہے''۔۱؎
حدیث شریف میں ہے:عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُھْدِيَ لَہُ ثَلَاثُ طَوَایر فَأَطْعَمَ خَادِمَہُ طَیراً، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ أَتَاہُ بِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ''أَلَمْ أَنْھَکَ أَنْ تُخْبِیئَ شَیااً لِغَدٍ، إِنَّ اللہَ یاتِيْ بِرِزْقِ کُلِّ غَدٍ''.۲؎
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تین پرندے ھدےۃً پیش کئے گئے تو آپ نے ایک پرندہ اپنے غلام کو کھانے کے لئے عطا فرمادیا، دوسرے روز غلام وہ پرندہ لے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں نے تجھے منع نہ کیا تھا کہ کل کے لئے کچھ بچا کر نہ رکھا کر، بے شک اللہ تعالیٰ ہر دوسرے دن کا رزق عطا فرماتا ہے۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:خدا کی قسم! جو شخص درہم (مال) کی عزت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ذلت دیتا ہے ۔مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،جلد ۳،ص۸۸) ۲؎ (مسند أبي یعلی،الحدیث:۴۲۲۳،ج۷،ص۲۲۴) (شعب الإیمان، باب التوکل والتسلیم، الحدیث:۱۳۴۸،ج۲،ص۱۱۹)