Brailvi Books

ضیائے صدقات
71 - 408
    ايک اور حديث شريف:
عَنْ أُمِّ کُلْثُوْمٍ بِنْتِ عُقْبَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْھَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''أَفْضَلُ الصَّدَقَۃِ عَلٰی ذِي الرَّحِمِ الْکَاشِحِ''.۱؎
حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا، ايسے اہلِ قرابت پر صدقہ کرنا افضل ہے جو پوشيدہ دشمنی رکھتا ہو۔

    فقيہ ابو الليث سمرقندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں، اگر کسی شخص کے رشتہ دار قريب ہوں تو اس پر لازم ہے کہ ان کے ساتھ تحائف و ملاقات کے ذريعہ صلہ رحمی کرے، اگر مالی طور پر صلہ رحمی پر قادر نہ ہو تو ان سے ملا کرے اور ضرورتاً ان کے کاموں ميں ہاتھ بٹائے اور اگر دور ہوں تو ان سے مراسلہ کرے اور (سفر کرکے) ان کے پاس جانے کی طاقت رکھتا ہوتو (خط لکھنے سے) خود جانا افضل ہے۔۲؎

    اہلِ قرابت پر صدقہ کرنے سے اس کا ثواب دونا ہوجاتا ہے، چنانچہ:
عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (صحيح ابن خزيمۃ، باب فضل الصدقۃ علی ذي رحم الکاشح، الحديث:۲۳۸۶، ج۴، ص۷۷۔۷۸)

(مسند الشھاب، أفضل الصدقۃ إصلاح ذات البين، الحديث: ۱۲۸۰، ج۲، ص۲۴۴)

(المعجم الکبير، الحديث: ۲۰۴، ج۲۵، ص۸۰)

۲؎    (تنبيہ الغافلين، ص۷۰)
Flag Counter