Brailvi Books

ضیائے صدقات
316 - 408
قناعت کی عظمت اور سوال کی مذمّت
    امام غزالی عليہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہيں: جان لو کہ فقر قابلِ تعريف ہے ليکن فقير کو چاہے کہ وہ قناعت کرنے والا، لوگوں سے لالچ نہ رکھنے والا، ان کے اموال پر نظرنہ رکھنے والا ہو اور نہ ہی مال کمانے پر حریص ہو کہ چاہے جس طرح بھی حاصل ہو۔ يہ اُسی وقت ممکن ہے جبکہ وہ کھانے، پہننے اور رہنے ميں بقدرِ ضرورت پر قناعت کرے۔۱؎

    حديث شريف ميں ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَۃُ بِأَحَدِکُمْ حَتّٰی يلْقَی اللہَ تَعَالٰی، وَلَيسَ فِيْ وَجْھِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍ''.۲؎
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: آدمی سوال کرتارہے گا یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا نہ ہوگا۔

    اسی طرح ايک حديث شريف ميں سوال يعنی مانگنے کو سائل کے چہرے پر خراشوں کا سبب فرمايا گيا ہے، چنانچہ:
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بيان ذم الحرص والطمع ومدح القناعۃ والياس مما في أيدي الناس،ج۳،ص۳۱۸)

۲؎    (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ، باب من سأل الناسَ تکثّراً،الحديث:۱۴۷۴،ج۱،ص۳۶۳)

(صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب کراھۃ المسألۃ للناس،الحديث:۱۰۴۰،ص۳۷۲)
Flag Counter