| ضیائے صدقات |
لينے کی وجہ سے اس کا ثواب کم نہيں ہوتا، ديکھو ان عاملوں کو پوری اجرت دی جاتی تھی مگر ساتھ ميں يہ ثواب بھی تھا، چنانچہ مجاہد کو غنيمت بھی ملتی ہے اور ثواب بھی، حضرات خلفائے راشدين سوائے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب نے خلافت پر تنخواہيں ليں مگر ثواب کسی کا کم نہيں ہوا، ايسے ہی وہ علماء يا امام و مؤذّن جو تنخواہ لے کر تعليم، اذان، امام کے فرائض انجام ديتے ہيں اگر ان کی نيت خدمت دين ہے تو ان شاء اللہ ثواب بھی ضرور پائيں گے۔۱؎
ايک اور حديث شريف:عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی الْأَشْعَرِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ''إِنَّ الْخَازِنَ الْمُسْلِمَ الْأَمِين الَّذِيْ یَنْقُلُ مَا أُمِرَ بِہِ فَيعطِيہِ کَامِلاً مُوَفِّراً طَيبَۃً بِہِ نَفْسُہُ فَيدفَعُہُ إِلَی الَّذِيْ أُمِرَ بِہِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِين''.۲؎
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لالصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روايت بيان کرتے ہيں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:بے شک مسلمان امانت دار خازن جسے کسی کو کچھ دینے کا حکم دیا گیا اور اس نے اسے کامل طور پر خوش دلی کے ساتھ پہنچا دیا تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ہے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۳،ص۱۸) ۲؎ (صحيح البخاري،کتاب الزکاۃ،باب أجر الخادم إذا تصدق بأمرصاحبہ غير مفسدۃ،الحديث: ۱۴۳۸،ج۱،ص۳۵۲) (صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب أجر الخازن الأمين والمرأۃ إذا تصدقت من بيت زوجہا غير مفسدۃ...إلخ،الحديث:۱۰۲۳،ص۳۶۷)