Brailvi Books

ضیائے صدقات
163 - 408
اور بہت روئے اور فرمايا: يہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ميرے لئے برأت نامہ ہے۔۱؎

    حضرت عيسیٰ علیہ السلام کے زمانے ميں ايک دھوبی تھا جو لوگوں کے کپڑے آپس ميں تبديل کرديتا، لوگوں نے حضرت عيسیٰ علیہ السلام کو اس کے متعلق بتايا تو آپ علیہ السلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی: اے اللہ! عز وجل اسے ہلاک فرمادے، ايک روز وہ دھوبی اپنے معمول کے مطابق نکلا، اس کے پاس تين روٹياں تھيں ايک سائل آيا تو اس نے ايک روٹی اُسے دے دی، سائل نے دعا دی: اللہ تعالیٰ تجھ سے آفاتِ سماويہ کا شر دور فرمائے، دھوبی نے اس دعا سے متأثر ہو کراسے ايک اور روٹی دے دی، اس پر سائل نے دعا دی: اللہ تعالیٰ تجھے جملہ آفتوں سے محفوظ رکھے تو اُس نے تیسری روٹی بھی دے دی، اس پر دعا دی:اللہ عزوجل تجھے توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ اسی دوران ایک بہت بڑا سانپ اس کے کپڑوں کی گٹھڑی میں داخل ہوچکا تھا۔ جب دھوبی نے کپڑے لینے کا ارادہ کیا تواس سانپ نے اسے ڈسنا چاہا، ایک فرشتے نے اسی لمحے اس سانپ کو لوہے کی لگام ڈال دی اور دھوبی سلامتی کے ساتھ واپس آگیا۔

    لوگوں نے حضرت عيسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا:یاروح اللہ!وہ دھوبی تو صحیح سلامت واپس آگیا! آپ علیہ السلام نے اسے بلايا اور فرمايا: تو نے کونسی بھلائی کی ہے؟ تو اُس نے عرض کی: ميں نے تين روٹياں صدقہ کی ہيں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اس سانپ سے پوچھا :تو نے اسے قتل کيوں نہ کيا؟ سانپ نے عرض کی: اے اللہ کے
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (نزھۃ المجالس، باب في فضل الصدقۃ...إلخ،ج۲،ص۶)
Flag Counter