Brailvi Books

اُمھاتُ المؤمنین
50 - 57
سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ادب
صلح حدیبیہ کے دوران ابو سفیان مدینہ منورہ آیاسیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچ کر چاہا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے بستر پربیٹھے سیدہ نے اپنے باپ کو بستر پر بیٹھنے سے منع کردیا اور فرمایا: یہ بستر طاہر و مطہر ہے اور تم نجاست شرک سے آلودہ ہو۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)
    سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کتب معتبرہ میں پینسٹھ احادیث مروی ہیں ان میں سے دو متفق علیہ ہیں ایک تنہا مسلم میں ہے باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۲)
وصال
    سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاکیزہ ذات ، حمیدہ صفات، جواد اور عالی ہمت تھیں، قرب و صال سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ مجھے ان امور میں معاف کردو جو ایک شوہر کی بیویوں کے درمیان ہوجاتے ہیں اور اس نوع سے جو کچھ میری جانب سے تمہارے متعلق واقع ہوا ہو اسے معاف کردو۔ انہوں نے کہا حق تعالیٰ آپ کو بخشے اور معاف کرے ہم بھی معاف کرتے ہیں۔ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں خوش رکھے تم نے مجھے خوش کردیا۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)
    ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مدینہ طیبہ میں  ۴۰ ھ؁ یا  ۴۴ھ؁ میں ہوا۔ ایک قول کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال شام میں ہوا۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۲)
Flag Counter