(الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ،ج۸،ص۷۷)
نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے پیام دیں اور نکاح کریں، پھر سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا وکیل بنایا، نجاشی نے خطبہ پڑھا، حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وہ تمام مسلمان جو حبشہ میں موجود تھے شریک محفل ہوئے، پھر نجاشی نے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دینار سپرد کئے لوگ جب روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے تونجاشی نے کہا: بیٹھ جاؤ کہ مجلس نکاح میں کھانا کھلانا انبیا علیہم السلام کی سنت ہے، نجاشی نے کھانے کاانتظام کیا،سب نے کھانا کھایا پھر رخصت ہوگئے۔
(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)