اسی طرح حقیقی ماں کے ماں باپ،نانی نانا اورحقیقی ماں کے بھائی بہن ماموں خالہ ہوا کرتے ہیں ،مگرازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ماں باپ امت کے نانی نانااور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بھائی بہن امت کے ماموں خالہ نہیں ۔
یہ احکام حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ان تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ہيں جن سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے نکاح فرمایا ،چاہے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے پہلے ان کا انتقال ہوا ہو یا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد انہوں نے وفات پائی ہو۔یہ سب کی سب امت کی مائیں ہیں اور ہر امتی کے ليے اس کی حقیقی ماں سے بڑھ کر لائق تعظیم و واجب الاحترام ہیں ۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات،ج۴،ص۳۵۶)
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداداور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف ہے ۔مگر گیارہ امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سامنے ہی انتقال ہوگیا تھا