| اُمھاتُ المؤمنین |
اَلْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن
حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نسبت مبارکہ کی وجہ سے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کا بھی بہت ہی بلند مرتبہ ہے،ان کی شان میں قرآن کی بہت سی آیات بینات نازل ہوئیں جن میں ان کی عظمتوں کا تذکرہ اور ان کی رفعتِ شان کا بیان ہے،چنانچہ خدا وند قدوس نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ
ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی کی بیبیو تم اورعورتوں کی طرح نہیں ہو۔ (پ22،الاحزاب:32)
دوسری آیت میں ارشاد فرمایاکہ
وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْ
ترجمۂ کنزالایمان:اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (پ22،الاحزاب:6)
یہ تمام امت کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی مقدس ازواج دوباتوں میں حقیقی ماں کے مثل ہیں ،ایک یہ کہ ان کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے ليے کسی کا نکاح جائز نہیں۔
دوم یہ کہ ان کی تعظیم وتکریم ہر امتی پر اسی طرح لازم ہے جس طرح حقیقی ماں کی، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ،لیکن نظر اور خلوت کے معاملہ میں ازواج مطہرات کا