Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
94 - 124
کی عبادت ميں مشغول ہو گيا ۔(ذم الھوی،ص ۲۱۹)
 (31 ) ایک فاسق وفاجر شخص کی توبہ
    حضرت عتبہ نوجوان تھے اور (توبہ سے پہلے )فسق و فجور اور شراب نوشی ميں مشہور تھے ۔ايک دن حضرت سيدنا حسن بصری علیہ الرحمۃکی مجلس ميں آئے ۔ حضرت سيدنا حسن بصری علیہ الرحمۃاس آيت کی تفسير کررہے تھے :
اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ
ترجمہ کنزالایمان :کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے )۔(پ۲۷، الحدید۱۶)

    آپ نے اس قدر مؤثر وعظ فرمايا کہ لوگوں پر گريہ طاری ہو گيا ۔ايک نوجوان کھڑا ہوا اور يہ کہنے لگا :''اے نيک آدمی !کيا اللہ تعالی مجھ جيسے فاسق و فاجر کی توبہ قبول کریگا جب ميں توبہ کروں۔'' شیخ نے فرمايا:تيرے فسق وفجور کے باوجود اللہ تعالی تيری توبہ قبول کریگا۔جب عتبہ نييہ بات سنی تو اس کا چہرہ زرد پڑ گيا اور سارا بدن کانپنے لگا ،چلايا اور غش کھا کر گر پڑا اور يہ اشعار پڑھے
     اَيا شَابًا لِرَبِّ الْعَرْشِ عَاصِیْ

     اَتَدْرِیْ مَاجَزَاءُ ذِوِی الْمَعَاصِیْ
اے عرش والے کی نافرمانی کرنے والے نوجوان کیاتُو جانتا ہے کہ گنہگاروں کی سزا کيا ہے؟
     سَعِير لِلْعُصَاۃِ لَھَا زَفِير

وَغَیظُ يومٍ یؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ
Flag Counter