Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
49 - 124
کی ہمت دے دے ، جن بندوں کے حقوق میں نے تلف کئے ان سے بھی معافی مانگنے کا حوصلہ عطا فرما ، اے اللہ عزوجل! تُو ہرشے پر قادر ہے ، تُو انہیں مجھ سے راضی فرمادے ، یااللہ عزوجل ! مجھے آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے پر استقامت عطا فرما ، اے اللہ عزوجل!مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
یارب عزوجل! میں تیرے خوف سے روتا رہوں ہر دم 

دیوانہ شہنشاہِ مدینہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا بنا دے
    اس کے بعد اس جگہ سے اس یقین سے اٹھے کہ رحیم وکریم پروردگار اللہ عزوجل  نے اس کی توبہ قبول فرما لی ہے ۔پھر ایک نئے عزم کے ساتھ نئی اور پاکیزہ زندگی کا آغاز کرے اور سابقہ گناہوں کی تلافی میں مصروف ہوجائے ۔اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
توبہ کی قبولیت کیسے معلوم ہو ؟
    حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ ايکعالم سے پوچھا گيا :ايکآدمی توبہ کرے،تو کيا اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی توبہ قبول ہوئی ہے يا نہيں ؟ فرمايا:''اس ميں حکم تو نہيں ديا جا سکتا ،البتہ اس کی علامت ہے ،اگر اپنے آپ کو آئندہ گناہ سے بچتا دیکھے اور يہ دیکھے کہ دل خوشی سے خالی ہے اور رب تعالی کے سامنے نيک لوگوں سے قريب ہو،بروں سے دور رہے تھوڑی دنيا کو بہت سمجھے اور آخرت کے بہت عمل کو تھوڑا جانے ،دل ہر وقت اللہ عزوجل کے فرائض ميں منہمک رہے ،زبان کی حفاظت
Flag Counter