Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
121 - 124
(54 ) ایک دہرئيے کی توبہ
    ۱۴۰۶؁ ھ میں امیر اہل ِ سنت ،حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس قادری مدظلہ العالی پنجاب کے مدنی دورے پر تھے کہ ساہیوال میں آپ کی مڈبھیڑ ایک دہریہ سے ہو گئی ۔ وہ اپنے عقائد ونظریات میں بہت پختہ دکھائی دیتا تھا لہذا! بحث مباحثہ کی بجائے آپ نے اس امید پر اسے کافی محبت وشفقت سے نوازا کہ ہوسکتا ہے کہ حسن ِ اخلاق سے متاثر ہوکر وہ عقائد باطلہ سے تائب ہوجائے ۔آپ کو پاکپتن شریف میں منعقد ہونے والے اجتماعِ ذکر ونعت میں بیان کرنا تھا، لہذا وہ بھی آپ کے ہمراہ چلنے پر تیار ہوگیا ۔بذریعہ بس پاکپتن شریف پہنچنے کے بعد آپ نے حضرت سیدنا بابا فرید الدین مسعود گنج ِ شکر ص کے مزارِ پُرانوار پر حاضری دی ۔وہ دہریہ بھی آپ کے ساتھ ساتھ تھا ۔ رات کے وقت اجتماع ِ ذکر ونعت میں آپ نے اپنے مخصوص انداز میں رقت انگیز دعا کروائی ۔ حاضرین پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے ۔ دوران ِ دعا آپ نے رو رو کر اللہ عزوجل  کی بارگاہ میں عرض کی،''یااللہ عزوجل !راہ ِ حق کا ایک متلاشی ہمارے ساتھ چل پڑا ہے اور اس نے تیری بارگاہ میں ہاتھ بھی اٹھا دیئے ہیں ،اب تُو اس کا دل پھیر دے اور اس کو نور ِ ہدایت نصیب کر کے روشنی کا مینار بنا دے ۔''

    جب دعا ختم ہوئی تو اس دہریہ نے آپ سے بڑی عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کی ،''دورانِ دعا ایک انجانے خوف کے سبب میرے تورونگٹے کھڑے ہو گئے ،اب میں نے توبہ کر لی ہے ۔''پھر اس نے آپ کے دست مبارک پر دہریت سے باقاعدہ توبہ کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا اور آپ کے ذریعے حضور سیدنا غوث الاعظم ص کی غلامی کا پٹا بھی اپنے گلے میں ڈال لیا ۔(انفرادی کوشش، ص۱۰۱)
Flag Counter