Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
107 - 124
ہوئے تيسرے دن ايک بستی ميں آئے ۔وہاں ايک اندھی عورت گاؤں کے دروازے پر بیٹھی تھی اس نے پوچھا: ''کيا تم ميں کوئی عکبر کردی بھی ہے ؟''ہم نے کہا:'' کيا کوئی کام ہے؟''اس نے کہا :''ہاں !ميں تين راتوں سے خواب ميں نبی کريم اکو ديکھ رہی ہوں وہ فرما رہے ہيں کہ عکبر کردی کو اپنے بيٹے کا چھوڑا ہوا مال دے دے ۔''پھر اس نے ساٹھ کپڑے ہميں دےئے جن میں سے کچھ ہم نے پہن ليے اور اپنے گھروں ميں آگئے ۔''
        (کتاب التوابين ، تو بۃ عکبر الکردی ،ص۲۲۲)
 ( 41) ایک مجوسی کی توبہ
    ابن ابی الدنيا علیہ الرحمۃ فرماتے ہيں کہ ايک شخص نے خواب ميں نبی کريم اکو ديکھا ،آپ افرما رہے تھے کہ بغداد ميں فلاں مجوسی سے جا کر کہو کہ ''تيری دعا قبول ہو گئی ہے۔''تو يہ شخص کہتا ہے کہ ميں بيدار ہو کر سوچنے لگا کہ ميں بغداد کيسے جاؤں؟اسی سوچ و بچار ميں پورا دن نکل گيا اور ميں سو گيا۔دوسری رات بھی يہی خواب ديکھا ۔ جب تيسرے دن بھی يہی خواب نظرآياتو ميں نے سواری لے کر بغداد کا رخ کيا اور اسی مجوسی کے پاس پہنچ گيا اور اس کے پاس جا کر بیٹھ گيا ۔وہ بہت مالدار تھا اس نے پوچھا :''کوئی ضرورت ہے؟''ميں نے کہا :''اکيلے ميں بتاؤں گا ۔''توکچھ لوگ چلے گئے اور اس کے چند ساتھی رہ گئے ۔ميں نے کہا :''انہيں بھی باہر بھیج دو۔'' تو وہ بھی باہر چلے گئے تو ميں نے کہا کہ اللہ عزوجل کے رسول ا کا قاصد ہوں ۔انہوں نے تمہیں پیغام بھیجا ہے کہ ''تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے ۔''مجوسی نے حيرت سے پوچھا:''کيا تو مجھے جانتا ہے؟'' میں نے کہا :''ہاں !''اس نے کہا کہ ''ميں تو اسلام اور محمداکی رسالت کا منکر ہوں ۔'' ميں نے کہا کہ'' تم اس طرح کہہ رہے ہو حالانکہ رسول اللہ نے مجھے تمہارے پاس
Flag Counter