Brailvi Books

تذکرہ صدرالشریعہ
39 - 52
 شاہ عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دربار میں حاضِری کی سعادت حاصِل ہوئی، ان دونوں تختوں کے نیچے حاضرہوئے اوراپنے اپنے دِل کی دعائیں کرکے جب فارِغ ہوئے تو میں نے اپنے پیرومرشِد حضرتِ صدرُالشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی سے عرض کی:حُضور! آپ نے کيا دعا مانگی؟ فرمایا:' 'ہر سال حج نصیب ہونے کی۔'' میں سمجھا حضرت کی دُعا کا مَنشا یِہی ہوگا کہ جب تک زِندہ رہوں حج کی سعادت ملے ۔ لیکن یہ دُعا بھی خوب قبول ہوئی کہ اُسی سال حج کا قَصدفرمایا۔ سفینۂ مدینہ میں سَوار ہونے کیلئے اپنے وطن مدینۃ العلماء گھوسی( ضِلع اعظم گڑھ) سے بمبئی تشریف لائے ۔یہاں آپ کو نُمونیہ ہوگیا اورسفینے میں سوار ہونے سے قبل ہی  ۱۳۶۷؁ کے ذیقعدۃُ الحرام کی دوسری شب 12 بجکر 26 مِنَٹ پر بمطابِق6 ستمبر 1948 کوآپ وفات پاگئے۔
مدینے کا مسافِر ہند سے پہنچا مدینے میں                     قدم رکھنے کی بھی نوبت نہ آئی تھی سفینے میں
    سبحٰنَ اللہ مبارَک تخت کے تحت مانگی ہوئی دُعا کچھ ایسی قبول ہوئی کہ اب آپ اِن شَاءَ اللہ عزّوجل قِیامت تک حج کا ثواب حاصِل کرتے
Flag Counter