اولاد اور طلبہ کی عملی تعلیم وتربیت کا بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خُصُوصی خیال فرماتے تھے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا تقوٰی وَتَدیُّن(یعنی دین داری) اس اَمر کا مُتَحَمِّل(مُ۔تَ۔حَم۔مِل) ہی نہ تھا کہ کوئی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے خِلافِ شرع کام کرے اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم میں طَلَبہ یا اولاد کے بارے میں کوئی ایسی بات آتی جو احکامِ شریعت کے خِلاف ہوتی توچِہرۂ مبارَکہ کا رنگ بدل جاتا تھا،کبھی شدید ترین بَرہمی کبھی زَجروتَوبیخ(ڈانٹ ڈَپَٹ) اور کبھی تَنبِیہ وسزا اور کبھی مَوعِظۂ حَسَنہ غرض جس مقام پر جو طریقہ بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مناسِب خیال فرماتے استِعمال میں لاتے تھے۔