ایک مرتبہ کسی صاحِب نے تاجدارِ اہلسنّت مفتی ٔ اعظم ہندشہزادۂ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مصطفی رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے سامنے صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا تذکرہ فرمایاتومفتی اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی چشمانِ کرم سے آنسو بہنے لگے اور فرمایا کہ صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے اپنا کوئی گھر نہیں بنایا بریلی ہی کو اپنا گھر سمجھا ۔وہ صاحبِ اثر بھی تھے اور کثیر التَّعداد طَلَبہ کے اُستاذ بھی، وہ چاہتے تو بآسانی کوئی ذاتی دار العلوم ایسا کھول لیتے جس پر وہ یکہ و تنہا قابِض رہتے مگر ان کے خلوص نے ایسا نہیں کرنے دیا۔''