شریفَین کی طرف حاضر ہو کر سرجھکائے دُرُود و سلام کے نذرانے پیش کر رہا تھاکہ يکايک ميری قسمت کا ستارہ چمک اُٹھا، میں ني عین جاگتی حالت میں دیکھا کہ ميرے پیارے پیارے ،جان سے بھی پیارے آقا ، ہم بے کسوں کے مددگار،باِذنِ پروردگار،دوعالم کے مالک و مختارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تشريف لے آئے۔ سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لب ہائے مبارَکہ کوجُنبِش ہوئی، رَحمت کے پھول جَھڑنے لگے۔الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے۔ ''ميرے عطّارؔ ۱ ؎ اس بار مدينے کیوں نہيں آئے!انہيں ميراسلام کہنا اور کہنا وہ مدينے آئيں چاہے کچھ لمحات کیلئے ہی آئیں''ميں نے بے ساختہ بڑھ کر دَست بوسی کی سعادت حاصل کی، ديکھتے ہی ديکھتے پيارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تشريف لے گئے۔
بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا يہ پیغام و سلام جب بابُ المدینہ (کراچی )میں اميراَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العاليہ تک پہنچا تو آپ بے قرار ہو گئے اور سفر کی تیاری شروع فرمادی۔