(10رَمَضَانُ الْمُبارَک (۱۴۲۷ھ2006)بروز بدھ دوپہرکم وبیش 1:00بجے اَحمد پور شرقیہ (پنجاب) میں علامہ فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادگان سے جب مذکورہ واقعہ سے متعلق بات ہوئی تو انہوں نے اس کی تصدیق مع دستخط اس طرح فرمائی کہ یہ ایمان افروز واقعہ خود ہمارے والد بزرگوار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ہی ہے ۔نجی محفلوں میں بارہا وہ اپنے حوالے سے سنایا کرتے ورنہ اکثر عاجزی فرماتے ہوئے اپنے نام کے اظہار کے بجائے ''ایک شخص''کہہ کر خود کو چھپاتے ۔ والد بزرگوار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے اگر کوئی امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے خلاف لَب کُشائی کی کوشش کرتا تو بَرمَلا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جلال کی کیفیت میں فرماتے ،خاموش رہو ! میں نے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کو سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ میں بہت اچھی حالت میں دیکھا ہے ۔ ان کا بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں کتنا بڑا مقام ہے یہ مجھے معلوم ہے ،تم لوگ نہیں جانتے ۔)