Brailvi Books

تربیت اولاد
93 - 185
    حضرت سيدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيان کرتے ہيں کہ بنو عذرہ کے ايک شخص نے ايک غلام کو مدبرکيا(يعنی يہ کہا کہ ميرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے)حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو يہ خبر پہنچی ،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس شخص سے پوچھا:''کيا تيرے پاس اس کے علاوہ بھی مال ہے؟''اس نے عرض کی ''نہيں''آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمايا:''اس غلام کو مجھ سے کون خريدے گا؟۔''حضرت سيدنا نعيم بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کوآٹھ سو در ہم ميں خريد ليا،اور وہ در ہم لا کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت اقدس ميں پيش کر دئيے،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے وہ درہم اس غلام کے مالک کو دئيے اور فرمايا''پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو،پھر اگر بچے تو اپنے اہل و عيال پر خرچ کرو،پھر اگر اپنے اہل و عيال سے کچھ بچے تو قرابت داروں پر،اور اگر قرابت داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو ادھراُدھر،اپنے سامنے،دائيں اور بائيں۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الزکوہ،باب الابتداء فی النفقۃ بالنفس....الخ، الحديث ۹۹۷،ص۴۹۹)
مسئلہ :
    آدمی پر کم از کم اتنا کمانا فرض ہے جو اس کے لئے ، اس کے اہل وعیال کے لئے،ادائیگی  قرض کے لئے اور انہیں کفایت کر سکے جن کا نفقہ اس کے ذمے واجب ہے ۔ماں باپ محتاج وتنگ دست ہوں تو انہیں بقدرِ کفایت کما کر دینا فرض ہے ۔
 (الفتاوی الھندیہ ،کتاب الکراہیۃ ،باب الخامس عشر فی الکسب ،ج۵ ،ص۳۴۸ )
Flag Counter