Brailvi Books

تربیت اولاد
181 - 185
کی مفلسی کے باعث نہیں لوٹ رہی ہوں بلکہ اس لئے کہ مجھے آپ کا توکل کمزور نظر آرہا ہے ،اسی لئے مجھے اپنے والد پر حیرت ہے کہ انہوں نے آپ کو پاکیزہ خصلت ، عفیف اور صالح کیسے کہا جب کہ آپ کا اللہ تعالیٰ پر بھروسے کا یہ حال ہے کہ روٹی بچا کر رکھتے ہیں۔''

    یہ باتیں سن کر نوجوان بہت متاثر ہوا اور ندامت کا اظہار کیا۔ لڑکی نے پھر کہا:''میں ایسے گھر میں نہیں رک سکتی جہاں ایک وقت کی خوراک جمع کرکے رکھی ہو اب یہاں میں رہوں گی یا روٹی ۔۔۔۔۔۔''یہ سن کر نوجوان فوراً باہر نکلا اور روٹی خیرات کردی ۔
 (روض الریاحین،الحکایۃ الثانیہ والتسعون بعد الما ئۃ ،ص۱۹۲)
    اس حکایت سے وہ والدین درسِ عبرت حاصل کریں کہ جب ان کے سامنے کسی نیک وپرہیزگار اسلامی بھائی کا رشتہ پیش کیا جائے تو صرف اس وجہ سے انکار کردیتے ہیں کہ وہ باریش اور سنتوّں کا عامل ہے جبکہ اس کے برعکس ایسے نوجوان 

کے رشتے کو ترجیح دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں جو اپنے برُے اعمال سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے جہنم میں جانے کا سامان کررہا ہو اور جس کی صحبت ان کی بیٹی کو بھی خوفِ خداعزوجل سے بے نیاز اور اس کی عبادت سے غافل کردے گی ۔
ایک ماں کی نصیحت :
    حضرت اسماء بنت خارجہ فزاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے اپنی بیٹی کو نکاح کرتے وقت فرمایا:''بیٹی تو ایک گھونسلے میں تھی ،اب یہاں سے نکل کر ایسی جگہ (یعنی شوہر کے گھر)جارہی ہے ،جسے توخوب نہیں پہچانتی ،ایک ایسے ساتھی (یعنی شوہر)کے پاس جارہی
Flag Counter