ترجمہ کنزالایمان : اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا۔(پ۲۶، الحجرات : ۱۱)
صدرالافاضل حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
''بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ القاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے القاب جو سچے ہوں ممنوع نہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر کا لقب عتیق(یعنی آزاد) اور حضرت عمرکا فاروق(یعنی فرق کرنے والا) اور حضرت عثمان غنی کا ذوالنورین(دونوروں والا) اور حضرت علی کا ابوتراب(تراب مٹی کو کہتے ہیں) اور حضرت خالد کا سیف اللہ(یعنی اللہ کی تلوار) رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور جو القاب بمنزلہ علم (یعنی نام کے قائم مقام )ہوگئے اور صاحب ِالقاب کو ناگوار نہیں وہ القاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اَعْمَشْ(یعنی چندھی آنکھوں والا) اَعْرَجْ (لنگڑا)