| تربیت اولاد |
ہوئے دیکھا تو فرمايا:''اے لڑکے!بسم اللہ پڑھ کر دائيں ہاتھ سے کھايا کرواور اپنے سامنے سے کھايا کرو ،چنانچہ اس کے بعد سے ميرے کھانے کا طریقہ یہی ہو گيا''
(صحیح البخاری،کتاب الاطعمۃ ،باب التسمیۃ علی الطعام والاکل بالیمین،الحدیث ۵۳۷۶،ج۳،ص۵۲۱)
(۸)کھانے میں کسی قسم کا عیب نہ لگائیں مثلاً یہ نہ کہیں کہ مزیدار نہیں ، کچا رہ گیا ہے ، پھیکا رہ گیا کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے اور اگر اس کی وجہ سے کھانا پکانے والے یا میزبان کی دل آزاری ہوجائے تو ممنوع ہے ۔بلکہ جی چاہے تو کھائیں ورنہ ہاتھ روک لیں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور خواہش نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔
(صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ، باب ماعاب النبی طعاماً،الحدیث۵۴۰۹،ج۳،ص۵۳۱ )
امام اہل سنت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں :'' کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر میں بھی نہ چاہيے،مکروہ وخلاف سنت ہے ۔ (سرکارِ دو عالم اکی ) عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرما لیا ورنہ نہیں ۔ (رہا)پرائے گھر میں عیب نکالنا تو(اس میں) مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمالِ حرص وبے مروتی پر دلیل ہے ۔ ''گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں ''یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مضر(نقصان دیتی) ہے ،اسے نہ کھانے کے لئے عذر کیا ،اس کا اظہار کیا نہ (کہ)بطورِ طعن وعیب مثلاً اس میں مرچ زائد ہے(اور) اتنی مرچ کا یہ عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی (اس وقت ہے کہ جب ) بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ (یعنی میزبان) کو اور تکلیف نہ