| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
دیا ہو۔
مثال :
اگر کسی نے قسم کھائی کہ میں فلاں کے گھرمیں قدم نہیں رکھوں گاتو اس سے اس کا حقیقی معنی ''قدم رکھنا''مراد نہیں لیا جائے گا کیونکہ لوگ اس سے یہ معنی مراد نہیں لیتے بلکہ عرف کے مطابق ''گھر میں داخل ہونا'' مراد لیا جائے گا۔حقیقتِ متعذرہ و مہجورہ کا حکم :
جب حقیقت متعذر یا مہجور ہو تو بالا تفاق مجازی معنی مراد لئے جائیں گے ۔
(۳)۔۔۔۔۔۔حقیقتِ مستعمَلہ :
ایسی حقیقت جس پر عمل کیا جاتاہو اگرچہ اس کے مجاز پر بھی عمل ہوتاہو۔
مثال :
اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ میں اس گندم سے نہیں کھاؤں گا تواس سے ''گندم کے دانے کھانا'' مراد لینا حقیقت ہے اور'' آٹا ،ستو،روٹی وغیرہ کھانا'' مراد لینا مجاز ہے اور یہ دونوں ہی مستعمل ہیں۔حقیقتِ مستعملہ کا حکم :
حقیقت مستعملہ کی دو صورتیں ہیں یا تو اسکا مجاز متعارف ہوگا یا نہیں اگر مجاز متعارف ہے تو امام صاحب کے نزدیک حقیقت پر عمل کرنا اولی ہے جبکہ صاحبین کے نزدیک عموم مجاز پر عمل کرنا اولی ہے اور اگر مجاز متعارف نہیں ہے تو بالاتفاق حقیقت پر عمل کرنا اولی ہے ۔