Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
32 - 144
   (۲)۔۔۔۔۔۔صاع تقریبا چار کلو ایک سو گرام کا ہوتا ہے۔

تنبیہ:

    ایک لفظ سے ایک ہی حالت میں حقیقت اور مجاز دونوں مراد نہیں لئے جاسکتے یا تو حقیقی معنی مراد ہو گا یا مجازی جیسے سابقہ مثال ،کیونکہ حقیقت اصل ہے اور مجاز مستعار۔
٭۔۔۔۔۔۔حقیقت کی اقسام۔۔۔۔۔۔٭
حقیقت کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں:

(۱)۔۔۔۔۔۔حقیقت متعذرہ (۲)۔۔۔۔۔۔حقیقت مہجورہ (۳)۔۔۔۔۔۔حقیقت مستعملہ
(۱)۔۔۔۔۔۔حقیقتِ متعذرہ :
ایسی حقیقت جس پر عمل مشکل ہو۔

مثال :

    کسی شخص نے قسم کھائی کہ میں اس کنویں سے نہیں پیؤں گاتو اس سے اس کا حقیقی معنی (کنویں میں اتر کر پینا مراد نہیں لیا جائے گا) کیونکہ اس قسم کا فعل عادۃً مشکل ہے بلکہ چلو یا کسی برتن کے ذریعے پینا مراد لیا جائے گا۔اسی لئے اگرحالف(قسم کھانے والا)کنویں میں داخل ہو کربتکلف منہ سے پی بھی لے توقسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ اس پر عمل کرنا عادۃً مشکل ہے تواس قول سے مجازی معنی یعنی چلو بھر کر پینا یا کسی برتن سے پینا مراد ہو گا۔
(۲)۔۔۔۔۔۔حقیقتِ مہجورہ :
    ایسی حقیقت جس پرعمل کرنا تو آسان ہو لیکن لوگوں نے اس پر عمل کرنا چھوڑ
Flag Counter