| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
جب غالب رائے سے مشترک کے کسی ایک معنی کو ترجیح حاصل ہو جائے تو اسے مؤول کہتے ہیں۔اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا:
(حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗ ؕ )
ترجمہ کنزالایمان: ''جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔[البقرۃ: ۲۳۰] '' لفظ'' نکاح'' کا معنی عقد (شادی) بھی ہے اور'' وطی'' بھی لیکن احناف نے جب غالب رائے سے یہاں ایک معنی یعنی ''وطی'' مراد لے لیا تواس آیت میں موجود لفظ نکاح مؤول ہو گیایعنی اس کا ایک معنی غالب رائے سے ترجیح پاگیا۔
نوٹ:
غالب رائے سے مراد قیاس سے حاصل ہونے والا ظن یا خبر واحد یا نصوص میں موجوددیگر قرائن ہیں۔مؤول کا حکم :
مؤول پر عمل کرنا واجب ہے لیکن اس میں خطا کا احتمال رہتا ہے۔ کیونکہ اس میں تاویل مجتہد کی طرف سے ہوتی ہے اور دلیل ظنی کے ساتھ لفظ کی مراد بیان کی جاتی ہے، بالفاظ ِدیگر اپنے مرادی معنی میں قطعی نہ ہونے کی وجہ سے ا س میں دوسرے معنی کا بھی احتمال باقی رہتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے منکر کو کافر نہیں کہتے ۔