Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
23 - 144
سبق نمبر(3)

(۔۔۔۔۔۔ خاص وعام کا بیان ۔۔۔۔۔۔)
    خاص ہر وہ لفظ ہے کہ جو کسی معنی معلوم یامُسَمَّی معلوم کیلئے انفرادی طورپر وضع کیا گیا ہو۔

نوٹ: مُسَمّٰی معلوم سے مراد کوئی بھی ذاتِ معلومہ ہے۔جیسے زید،آدمی، انسان۔
خاص کی اقسام
    خاص کی تین قسمیں ہیں:

(۱)۔۔۔۔۔۔خاص الفرد جیسے'' زید'' (۲)۔۔۔۔۔۔خاص النوع جیسے''رجل'' 

(۳)۔۔۔۔۔۔ خاص الجنس جیسے اِنْسَان۔
خاص کا حکم :
    (۱)۔۔۔۔۔۔خاص اگر کتاب اللہ میں ہو تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ 

    (۲)۔۔۔۔۔۔ اگر خاص کے مقابلہ میں خبر واحد یا قیاس آجائے ،توخاص کے حکم میں بغیر کسی تغیر و تبدل کے دونوں کے مابین تطبیق ممکن ہو توفبھا، ورنہ کتاب اللہ پر عمل کیا جائے گا۔
خاص کی مثال :(خاص الفرد)
    اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
 ( وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ
Flag Counter