| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
اس کا حکم :
اگر وہ اس حرام کے مباح ہو جانے کے بعد بھی اس کے کھانے سے باز رہا اور مر گیا تو گنہگار ہوگا ۔کیونکہ اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:(فَمَنِ اضْطُرَّ فِی مَخْمَصَۃٍ)[المائدۃ: ۳]
ترجمہ کنزالایمان: ''توجوبھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو۔'' اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص نہایت بھوکا پیاسا ہو کہ موت کا صحیح اندیشہ ہے اور اسے کوئی حلال چیز میسر نہیں تو ایسی صورت میں اسے حرام کھانے پینے کی اجازت ہے بلکہ اتنا کھانا پینا فرض ہے کہ جس سے جان بچ سکے لیکن جب اس نے کچھ بھی نہ کھایا اور اسی سبب سے مر گیا تو گنہگار ہو گا کہ جان بچانا فرض ہے۔