( یعنی جو بِلا کسی ظاہِری وجہ کے عالِمِ دین سے بُغض رکھے اُس پر کُفر کا خوف ہے '')
( فتاویٰ رضویہ ج ۱۰ ص ۱۴۰ مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
شَرِیعَت و عُلَمائے دین کی تَحقیر کے بعض کُفریہ کلِمات وانداز کی مِثالیں پیش کی جاتی ہیں ، اگر مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کسی نے ماضی میں اپنے قول یا فِعل سے عالِم کی بسببِ علمِ دین توہین کر ڈالی ہو تو وہ توبہ و تَجدیدِ ایمان کرلے اور اگر شادی شدہ ہو تو تجدیدِ نکاح اورکسی کا مُرید ہو تو تَجدیدِ بَیعَت بھی کرلے۔
٭ شَرِیعَت کی توہین کرنا کُفر ہے مَثَلاًکہا: میں شَرع وَرع نہیں جانتا یا جس کو کسی مُحتاط عالمِ دین کا فتویٰ پیش کیا گیا اُس نے کہا: میں فتویٰ نہیں مانتا یا فتویٰ زمین پر پٹک دیا۔
(ماخوذ از بہارِ شَرِیعَت حصہ ۹ ص ۱۷۲)
٭'' مولوی لوگ کیا جانتے ہیں، '' اس ( جملے) سے ضَرور عُلَما کی تَحقیر نکلتی ہے اور