Brailvi Books

تعارفِ دعوتِ اسلامی
51 - 56
''عالِم'' ہے جب تو صَریح کافِر ہے اور اگر بوجہِ عِلم اُس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کِسی دُنیوی خُصُومت ( یعنی دشمنی) کے باعِث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا ہے اور تَحقیر کرتا ہے تو سخت فاسِق و فاجِر ہے اور اگر بے سبب ( یعنی بِلاوجہ) رنج ( بُغض) رکھتا ہے تو
مَرِیضُ القَلبِ وَخَبیثُ البَاطِن
 ( یعنی دل کا مریض اور ناپاک باطِن والا) ہے اور اُس ( یعنی خواہ مخواہ بُغض رکھنے والے) کے کفر کا اندیشہ ہے، ''خُلاصہ،، میں ہے
مَن اَبغَضَ عَالِماً مِّن غَیْرِ سَبَبٍ ظَاھِرٍ خِیْفَ عَلَیْہِ الْکُفْرُ
 ( یعنی جو بِلا کسی ظاہِری وجہ کے عالِمِ دین سے بُغض رکھے اُس پر کُفر کا خوف ہے '')
 ( فتاویٰ رضویہ ج ۱۰ ص ۱۴۰ مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
شَرِیعَت و عُلَمائے دین کی تَحقیر کے بعض کُفریہ کلِمات وانداز کی مِثالیں پیش کی جاتی ہیں ، اگر مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کسی نے ماضی میں اپنے قول یا فِعل سے عالِم کی بسببِ علمِ دین توہین کر ڈالی ہو تو وہ توبہ و تَجدیدِ ایمان کرلے اور اگر شادی شدہ ہو تو تجدیدِ نکاح اورکسی کا مُرید ہو تو تَجدیدِ بَیعَت بھی کرلے۔
٭ شَرِیعَت کی توہین کرنا کُفر ہے مَثَلاًکہا: میں شَرع وَرع نہیں جانتا یا جس کو کسی مُحتاط عالمِ دین کا فتویٰ پیش کیا گیا اُس نے کہا: میں فتویٰ نہیں مانتا یا فتویٰ زمین پر پٹک دیا۔
 (ماخوذ از بہارِ شَرِیعَت حصہ ۹ ص ۱۷۲)
٭'' مولوی لوگ کیا جانتے ہیں، '' اس ( جملے) سے ضَرور عُلَما کی تَحقیر نکلتی ہے اور
Flag Counter