Brailvi Books

تعارفِ دعوتِ اسلامی
50 - 56
چہرے پر لکھا ہوگا، یہ اللہ کی رَحمت سے مایوس ہے۔''
 ( مکاشفۃ القلوب ، فی بیان الغیبۃ، ص ۷۱)
حضرتِ سیِّدُنا ابوذرّ غِفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ''عالِم زمین میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دلیل و حُجَّت ہیں تو جس نے عالم میں عیب نِکالا وہ ہلاک ہوگیا۔ ''
(کنزُالعمال ج ۱۰ ص ۷۷)
میرے آقا اعلیٰ حضرت مولیٰناشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں، ''اُس کی ( یعنی عالم کی) خَطاگِیری ( یعنی بھول نکالنا) اور اُس پر اعتِراض حرام ہے اور اِس کے سبب رہنمائے دین سے کَنارہ کَش ہونا اور اِستِفادَۂ مسائل چھوڑ دینا اِس کے حق میں زَہر ہے۔''
 (فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۷۱۱ )
اُن نادان لوگوں کو ڈر جانا چاہیے جو بات بات پر عُلَمائے کِرام کے بارے میں تَوہین آمَیز کلِمات بک دیا کرتے ہیں مَثلاً بھئی ذرا بچ کر رہناکہ ''عَلّامہ صاحِب '' ہیں ، عُلَما لالچی ہوتے ہیں، ہم سے جَلتے ہیں، ہماری وجہ سے اب ان کا کوئی بھاؤ نہیں پوچھتا، چھوڑو چھوڑو یہ تَو مولوی ہے ، ( معاذَ اللہ عالِم کو بعض لوگ حَقارت سے کہہ دیتے ہیں ) ''یہ مُلّا لوگ!''، عُلَما نے ( مَعاذَ اللہ) سُنّیت کا کوئی کام نہیں کیا ( بعض اوقات ناپسندیدَگی کا اِظہارکرتے ہوئے کہہ دیا جاتا ہے) فُلاں کا اندازِ بیان تو مَولَویوں والاہے وغیرہ وغیرہ۔ عالِمِ کی تَوہین کی صورَتیں اور ان کے بارے میں حکمِ شَرعی بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: '' اگر عالِمِ دین کو اس لیے بُرا کہتا ہے کہ وہ
Flag Counter