دوسرے دن انکے بھائی دوبارہ بستے پر آئے تو ان کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے۔ انہوں نے بتایا:'' ميں نے گھر جاکر جيسے ہی تعويذ اپنے بیمار بھائی جان کے سر پر باندھا تو سارے گھر والے حيران رہ گئے کہ چند منٹ بعد ہی بھائی نے( جو لگتا تھا کہ آخری سانسيں لے رہے ہيں) آنکھيں کھول ديں۔انہوں نے گھر والوں کو بٹھانے کا اشارہ کيا ۔انہیں سہارا دے کر بٹھا ديا گيا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ انہوں نے کھانابھی کھانا شروع کردياہے ۔''2دن بعد برین ٹیومر کے مرض میں مبتلا رہنے والے اِسلامی بھائی اپنے قدموں پر چل کر تعويذات عطاريہ کے بستے پر ذِمَّہ داران سے ملنے آئے اور بتایا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ميری طبیعت75% فےصد صحيح ہوگئی ہے۔