| تعارف امیرِ اہلسنّت |
والی اسلامی بہنوں سے ارشاد فرمایا:''توبہ کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ جس کی حق تلفی کی ہو یا اذیت پہنچائی ہو اس سے معافی مانگی جائے ،جس کے تعلقات جتنے زیادہ ہوتے ہیں اتنا ہی دوسروں کی دل آزاری ہوجانے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے ، اور میرے تعلقات یقینا آپ سب سے زیادہ ہيں ، لہٰذا میری درخواست ہے کہ میری طرف سے اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچی ہو ، کوئی حق تلف ہوگیا ہو، کبھی ڈانٹ دیا ہو، ملاقات نہ کرنے پر آپ ناراض ہوگئے ہوں ، تو ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے مجھے معاف کر دیجئے ، مجھے آپ سے نہیں اپنے رب تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے ، کہہ دیجئے:''جا معاف کیا۔''
بیعت وارادت
امامِ اہلِسنّت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے بے حد عقیدت کی بنا پر امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کوآپ علیہ رحمۃ الرحمن کے سلسلے میں داخل ہونے کا شوق پیدا ہوا ۔جیسا کہ امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ خود لکھتے ہیں:''(مرید ہونے کے لئے) ایک ہی ''ہستی'' مرکز توجہ بنی ،گومشائخِ اہل ِسنت کی کمی تھی نہ ہے مگر
؎ پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا
اس مقدس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسطے سے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن سے نسبت ہوجاتی تھی اور اس ''ہستی'' میں ایک کشش یہ بھی تھی کہ براہِ راست گنبدِ خضرا کا سایہ اُس پر پڑ رہا تھا۔اس ''مقدس ہستی'' سے میری مراد حضرت شَیخُ الفضیلت آفتابِ رَضَویت ضیاءُ الْمِلَّت، مُقْتَدائے اَہلسنّت، مُرید و خلیفۂ اعلیٰ حضرت،پیرِ طریقت، رَہبرِ شَرِیْعَت ، شَیخُ العَرَب و العَجَم، میزبانِ مہمانانِ مدینہ ، قطبِ مدینہ ،