Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
71 - 88
پڑھ کر شَشْدَر رہ گئے اورجذباتِ تاثر سے ان کی پلکیں بھیک گئیں۔(مضمون کچھ یوں تھا)

    میرے میٹھے میٹھے مَدَنی بیٹےزِیْدَ مَجْدُہُ کی خدمت میں شکریہ بھرا سلام، آپ کی فتاویٰ رَضَویہ شریف سے مطلوبہ عبارات کے عِلاوہ بھی استِفادہ کیا، خاص خاص کَلِمات و فِقرات کو خط کشیدہ کرنے کی عادت ہے مگر مَجاز(یعنی بااختیار)نہ ہونے کے باعث مُجتَنِب (یعنی رکا)رہا مگر بے احتیاطی کے سبب ایک صفحہ کے اوپر کی جانب معمولی سا کاغذ پھٹ گیا، بصد نَدامت معذرت خواہ ہوں، امّید ہے مُعافی کی خیرات سے مَحروم نہیں فرمائیں گے۔ کاغذ اتنا کم شق ہوا ہے کہ غالِباً ڈھونڈنے پر بھی نہ مل سکے۔ عِلاوہ اَزِیں بھی جو حُقوق تَلَف ہوئے ہوں مُعاف فرمادیجئے۔ دَین ہوتو وصول کرلیجئے(یعنی میری طرف آپ کی کوئی رقم وغیرہ بنتی ہو تو لے لیجئے)۔دعائے مغفِرت سے نوازتے رہے۔ والسلام مع الاکرام
دورانِ بیان معافی طلب کرنا :
    کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ خوفِ خدا عزوجل کے سرمایہ سرمدی کی بنا پرامیرِ اَہلسنّت

دامت برکاتھم العالیہ نے حقوق العباد میں حد درجہ محتاط ہونے کے باوجود دورانِ بیان بھی لوگوں سے ان کے حقوق کے بارے میں معذرت طلب کی۔ چنانچہ باب الاسلام سندھ سطح پر۲،۳،۴ محرم الحرام  ۱۴۲۵؁ھ کو ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں ہونے والے بیان کے دوران آپ دامت برکاتھم العالیہ نے توبہ کی شرائط کی وضاحت کرتے ہوئے وہاں موجود لاکھوں اسلامی بھائیوں اورٹیلی فون وغیرہ کے ذریعے سننے
Flag Counter