Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
41 - 88
شرکت کی دعوت پیش کی تھی وہ نوجوان ميں ہی ہوں۔ ميں آپکے عظیم حسنِ اخلاق سے بےحد متاثر ہوا اور ایک دن اجتماع ميں آگیا، پھر آپ کی نظرِ کرم ہو گئی اور الحمدللہ عزوجل! ميں گناہوں سے توبہ کرکے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گيا ۔
عفو ودرگزر
    حضرت سیدنا عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں رحمتِ عالم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا توحضورسرورِکونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے ارشادفرمایا: ''جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑو،جو تمہیں محروم کرے اُسکو عطا کرو اورجو تم پر ظلم کرے تم اُسے معاف کرو۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،حديث عقبہ بن عامر ،الحديث۱۷۴۵۷،ج۶ص۱۴۸، دار الفکر بیروت)
ناراض پڑوسی :
    امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام لینے کی بجائے اسے معاف کردیتے ہیں۔جب امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ موسیٰ لین باب المدینہ (کراچی )میں ایک فلیٹ میں رہا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ پڑوس میں رہنے والی خاتون کی آپ کے گھر والوں سے کچھ بدمزگی ہوگئی ۔ اس خاتون نے اسی وقت گھر میں موجود اپنے بچوں کے ابو (یعنی شوہر)کو سارا قصہ اپنے انداز میں جاسنایا ۔ وہ اس کی بات سن کر بھڑک اٹھا اورخطرناک تیور لئے آپ کے دروازے پر پہنچا اور آپ سے ملنے کا تقاضا کیا لیکن آپ اس وقت راہ ِ خدا عزوجل میں سفر
Flag Counter